قاضی حسین احمد… یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

 

ڈاکٹر فرزانہ سلیمان پونا والا
’’آہ… قاضی صاحب!‘‘ کیا لکھوں، کیسے لکھوں! آج شدت سے اپنی کم علمی، اپنی حیثیت و قابلیت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ اور یہ احساس بھی قوی تر کہ ہم جیسوں کے لیے کسی ایسی عظیم ہستی کے بارے میں اظہار کرنا، اس کی بڑائی اور شخصیت کے ان پہلوئوں کو اجاگر کرنا کہ جو اس کو دوسروں سے ممتاز وممیز کرتے ہیں کتنا دشوار ہے۔ میں خود کو تیار نہیں کرپا رہی ہوں کہ اپنی تحریر میں یہ الفاظ لا سکوں: ’’محترم قاضی حسین احمد انتقال کرگئے‘‘۔ یہ سوچتے سوچتے کئی دن گزر گئے کہ میں کہاں اس قابل ہوں کہ قاضی صاحب کے بارے میں کچھ لکھ سکوں! اور پھر اگر لکھا تو کہیں ان کی زندگی کا کوئی پہلو جو سراسر پوری امت کے لیے رہنمائی و عملی جدوجہد کا مظہر ہو، ضبطِ تحریر میں آنے سے نہ رہ جائے اور میں اس کا حق ادا نہ کر پائوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری مدد و رہنمائی فرمائی اور مجھے اس بات پر یکسو کیا کہ نہ تو میں ان کی شخصیت کے بارے میں کچھ تحریر کرنے جا رہی ہوں اور نہ میں اس قابل ہوں۔ میں تو صرف کوشش کروں گی کہ اپنی زندگی کی ان خوبصورت یادوں کو جو قاضی صاحب کی شخصیت سے وابستگی کی وجہ سے میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات بن گئے ہیں ضبطِ تحریر میں لا سکوں اور اس مردِ مجاہد کی عظمت اور ملّتِ اسلامیہ کے لیے خدمات پر اللہ رب العزت کے حضور گواہی دے سکوں کہ اے اللہ! تیرے اس بندے نے تیری دی ہوئی صلاحیت و علم کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی بے لوث، مخلصانہ اور انتھک جدوجہد کی ہے۔ اے میرے رب بلند ترین درجات کے ساتھ قبول فرما۔
چونکہ میرے والد محترم سلیمان پونا والا مرحوم کو قاضی صاحب سے خاص انسیت تھی اور اسی طرح قاضی صاحب کو بھی میرے والد اور ہماری پوری فیملی سے خاص محبت و انسیت تھی، یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھر کے دکھ درد میں ہمیشہ انہوں نے اپنائیت کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم رکھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب محترم قاضی صاحب امیر جماعت بننے کے بعد پہلی مرتبہ کراچی آئے تو خصوصی طور پر ناشتہ کرنے ہمارے گھر تشریف لائے۔ ان کی پُرخلوص اور محبت و شفقت سے بھرپور باتیں نہیں بھلائی جا سکتیں۔
والدِ محترم کی بیماری کے دوران قاضی صاحب عیادت کے لیے ہسپتال تشریف لائے۔ بھائی نے بتایا کہ ان کی آمد کے وقت مغرب کی اذانیں ہورہی تھیں۔ وہ سیدھے ہسپتال کی چھوٹی سی مسجد تشریف لے گئے جہاں صفیں بن چکی تھیں، ہسپتال کا چوکیدار امامت کے لیے مصلے پر آچکا تھا اور تکبیر کہی جارہی تھی۔ قاضی صاحب کی آمد کی خبر ملتے ہی چوکیدار نے امامت کی جگہ والہانہ محبت سے لبریز الفاظ کے ساتھ قاضی صاحب کے لیے خالی کردی۔ قاضی حسین احمد نے ایک مرتبہ پھر اپنے عظیم رہنما و قائد ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے انتہائی شفقت سے چوکیدار کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ چونکہ تم امامت کے مصلے پر آگئے ہو لہٰذا اب جماعت کی امامت تم کرو گے اور میں تمہاری اقتدا میں نماز ادا کروں گا۔ وہ شاید پوری نماز کے دوران اپنی خوش قسمتی کے اظہار کے لیے بے چین رہا تھا، اسی لیے نماز ختم ہوتے ہی بے ساختہ قاضی صاحب سے بغل گیر ہوگیا اور کبھی شکریہ اور کبھی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتا رہا۔ دیکھنے والے حیرت سے ششدر رہ گئے تھے کہ کیا کسی قائد کا یہ عاجزانہ انداز آج کے دور میں ممکن ہے! وہاں موجود ہر شخص کے دل نے یقینا یہ گواہی دی ہوگی کہ امت کی قیادت ایسے ہی لوگوں کا حق ہے۔
والدِ محترم کے انتقال پر قاضی صاحب تعزیت کرنے ہمارے گھر تشریف لائے۔ بے حد غمگین لیکن پُرعزم لہجے میں تمام گھر والوں سے تعزیت کی اور اُس وقت گھر میں موجود میرا ڈھائیسال کا سب سے چھوٹا بھتیجا جب ان کے سامنے آیا تو اس کو بے حد پیار کیا اور اپنی موجودگی کے دوران تمام وقت اسے اپنی گود میں بٹھائے رکھا۔ وہ غم کی اس گھڑی میں اپنی محبت، پدرانہ شفقت سے بھرپور باتوں، والد صاحب سے اپنے تعلق کے ذکر اور نصیحت آمیز ہدایات کے ذریعے پوری فیملی کو ایک بزرگ کا پیار دیتے ہوئے ڈھارس بندھاتے رہے۔
والد صاحب مرحوم کی خواہش کے مطابق میری پی۔ ایچ۔ ڈی کی تکمیل کی خوشی کے موقع کو گھر والوں نے خاندان، دوست احباب اور ساتھیوں کے ساتھ منانے کا اہتمام کیا۔ محترم قاضی صاحب بھی خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کے لیے کراچی تشریف لائے۔ قاضی صاحب کی اس تقریب میں شرکت وہاں موجود لوگوں کے لیے نہ صرف حیران کن اور مسرت انگیز تھی، بلکہ ہٹو بچو کی صدائوں اور حفاظتی اہلکاروں کے بغیر خلافِ توقع ایک عام آدمی کی طرح پوری وضع داری اور انکسار کے ساتھ ہوٹل میں آمد نے ہوٹل انتظامیہ کو بھی سیاسی شخصیت و لیڈر کے بارے میں سوچنے کے لیے نئی جہت مہیا کی، اور وہ سب اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے کہ ہم نے آج تک ایسا بے خوف اور ملنسار قائد نہیں دیکھا۔
قاضی صاحب نے تقریب کے اختتام پر ہم سب گھر والوں کے دلوں میں اپنی اہمیت و محبت کو اس وقت اور بڑھا دیا جب انہوں نے بھائیوں سے بے ساختہ پوچھا کہ کیا اس پروگرام کی ویڈیو بنی ہے؟ جب انہیں بتایا گیا کہ ویڈیو نہیں بنی، تو انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ایسا تھا جس کی ویڈیو بننی چاہیے تھی۔ ہم سب گھر والوں کو اُس وقت تو افسوس ہوا ہی لیکن آج اس پروگرام کی ویڈیو نہ بنانے کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔
چونکہ یہ تقریب میرے والد کے انتقال کے کچھ ہی عرصے بعد ہوئی تھی اس لیے بھی قاضی صاحب کی اس پروگرام میں شرکت نے ہم تمام گھر والوں کو نیا حوصلہ دیا۔
میرے گھر والوں کے دل میں قاضی صاحب کے لیے عزت، محبت، پیار اور عظمت کا جو مقام ہے اس کا بجا طور پر اظہار میرے بھائی نے پروگرام میں قاضی صاحب کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان الفاظ کے ساتھ کیا:
’’اس پروگرام کو ترتیب دیتے ہوئے ہم تمام گھر والے اپنے والد صاحب کی کمی شدت سے محسوس کر رہے تھے لیکن آج اس تقریب میں قاضی صاحب کی شرکت نے ہمیں یتیمی کے احساس سے بچا لیا ہے اور ہمیں یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے اوپر ایک ذمہ دار، مشفق اور باپ کی طرح مہربان بزرگ کا سایہ موجود ہے۔‘‘
میرے کانوں میں آج تک محترم قاضی صاحب کے وہ الفاظ جو انہوں نے فیصل مسجد میں اجتماع عام کے موقع پر گلو گیر آواز میں کہے تھے، گونج رہے ہیں کہ ’’میرے عزیزو! میرا آپ سے بچھڑنے کو دل نہیں چاہ رہا ہے، آپ کا دل بھی نہیں چاہ رہا ہو گا، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اِن شاء اللہ جلد جنت الفردوس میں ملاقات کریں گے۔‘‘
آہ! یہ عزم، یہ یقین… کہاں سے لائیں گے ہم۔ اے اللہ! میرے محترم، میرے قائد کو انبیائ، شہدا، صدیقین اور صالحین کی صف میں شامل فرما اور ہمیں توفیق دے کہ ہم تیری رضا کے حصول کے لیے ایسا کچھ کر سکیں کہ قاضی صاحب کی توقع اور خواہش کے مطابق ان سے جنت میں مل سکیں۔ (آمین)